Monday, July 7, 2014

وزیر اعلی خیبر پختونخواه اسلام آباد میں آج منرل پالیسی کا اعلان کریں گے

وزیر اعلی خیبر پختونخواه آج اسلام آباد میں عمران خان کی موجودگی میں منرل پالیسی کا اعلان کریں گے . اس سے پهلے پالیسی کے نام پر سابقه حکومت نے پانچ سال منرلز کے نئے لائسنسوں کے اجراء وغیره پر پابندی رکھی جبکه اپنے لوگوں کو نوازنے کا سلسله جاری رها جسکے خلاف متاثرین عدالتوں میں دھکے کھا رهے هیں اور اس حکومت کے آنے پر اس پیشه سے منسلک لوگ بڑی امیدیں لگائے بیٹھے تھے لیکن مو جوده حکومت نے بھی سابقه حکومت کی روایت برقرار رکھتے هوئے نئی پالیسی کے نام پر لائسنسوں اور لیزوں کے اجراءپر تاحال پابندی لگا رکھی هے. اسی اثناء میں حکومت کا ایک چائنیز کمپنی ٹیونے پاک کے ساتھ تنازعه بھی سامنے آیا جس میں جکومت کا موقف تھا که مذکوره کمپنی غیر قانونی مائننگ میں ملوث هے جبکه کمپنی کا موقف تھا که وه حکومت کی طرف سے جاری کرده اجازت نامه کے بعد کام کر رهے هیں اور کسی غیر قانونی کام میں ملوث نهیں هیں اس مو قع پر کمپنی نی اپنی انویسٹمنٹ صوبه سے بلوچستان منتقل کرنے کی دھمکی بھی دی اور وزیر معدنیات کے خلاف ایک ارب روپے هرجانے کا دعوی بھی دائر کر رکھا هے. اس شعبے سے منسلک لوگوں کو اس نئی پالیسی کا شدت سے انتظار هے لیکن ساتھ هی آنے والی خبروں کے بعد سخت پریشانی کا بھی شکار هیں کیونکه مجوزه پالیسی میں وسیع پیمانے پر مائننگ کو زیاده توجه دی گئی هے جبکه اس پیشه سے منسلک ایک بڑی تعداد مڈل کلاس یا لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھتے هیں اور اس بات کا قوی امکان هے که نئی پالیسی میں لائسنس اور لیز کے حصول کو مزید مشکل اور غریب کش بنا دیا جائیگا   جس سے هزاروں لوگ بے روزگار هو جائیں گے.

No comments:

Post a Comment