عمران خان کے مطالبات اور حکومتی ردعمل
تحریر : عزیر خان تنولی
بهاولپور جلسے میں پی ٹی آئی کے سربراه عمران خان نے حکومت کو ٣٠ دن کی مهلت دی جس کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے پریس کانفرنس کرتے هو ئے یه کها تھا که انھوں نے عمران خان کی طرف سے اٹھائے جانے والے سوالوں کا جواب دے دیا هے اور اب مارچ کا کوئی اور جواز ڈھونڈنا هو گا
میرے خیال سے دونوں طرف سے سنجیده روئیے کا مظاهره نهیں کیا جا رها ، عمران خان کو چاهئے تھا که وه جمهوری اقدار کا خیال رکھتے هوئے پالیمنٹ میں اس مسئلے کو اٹھاتے اور حکومت کو مجبور کرتے که وه ان سوالوں کے جواب دے اور اگر وهاں ناکام هوتے تو عدالتوں پر اعتماد کرتے لیکن خان صاحب نے جمهوری روایات کے بر عکس پارلیمنٹ کو بائی پاس کر کے عوام کی عدالت میں یه مسئله پیش کیا هے، معلوم نهیں خان صاحب کے رفقا نے انھیں کیا حل تجویز کیا هے جس کیلئے وه اسلام آباد مارچ کرنے پر بھی تیار هو گئے هیں اور وه بھی ایسے وقت میں جب هماری فوج وزیرستان میں دهشت گردوں کے خلاف برسرپیکار هے اور خان صاحب کا صوبه اس سے زیاده متاثر هے اور زیاده ذمه داری بھی انهی پر عائد هوتی هے- ان کے اس موقف کو کوئی اور سپورٹ کرتا هو گا لهکن میری ناقص عقل کے مطابق خان صاحب کا یه فیصله درست نهیں کیونکه اگر وه اس سارے کھیل میں کامیاب بھی هو جاتے هیں تو جو کامیابی ان کے هاتھ آئے گی وه کامیابی کم اور ناکامی زیاده هو گی
دوسری طرف کی بات کریں تو وهاں بھی چند وزراء جو بظاهر لفاظی کے ماهر نظر آتے هیں انھیں محض یه ٹاسک دیا گیا که دوسری طرف سے لگائے گئے الزامات کا جواب دے کر حساب برابر کر دیا جائے ، حالانکه حکومت کو چاهئے که اگر خان صاحب نهیں بھی چاهتے تب بھی اپنے اوپر لگائے گئے الزامات اگر غلط هیں توانکو غلط ثابت کر کے اس باب کو همیشه کیلئے بند کر دے -
ڈاکٹر طاهرالقادری کی تحریک اور مارچ کی تو وجه سمبھ آتی هے کیونکه ان کے پاس فورم موجود نهیں لیکن خان صاحب شاید اس فورم کو استعمال نهیں کرنا چاهتے کیونکه انھوں نے اپنے نوجوان ورکرز کو بھی جگائے رکھنا هے جو وه گاهے بگاهے جلسے کرتے رهتے هیں .خان صاحب کو چاهئے وه جو مطالبات اسلام آباد جا کر حکومت کے سامنے رکھنے والے هیں وه پهلے هی انھیں بتا دیں اور اگرممکن هو تو قومی مفاد کو سیاسی مفاد پر ترجیح دیتے هوئے اور موقع کی نزاکت کو سمجھتے هو ئے سونامی مارچ کو ملتوی کر دیں کیونکه یه خان صاحب کی اخلاقی برتری هو گی اور حکومت کو چاهئے که خان صاحب کی مشاورت سے کمیشن بنا کر تمام معاملات کی تحقیقات کروا کے خان صاحب کی تسلی کرا دے تا که ملک کو مزید انتشار اور ممکنه بدامنی سے بچایا جا سکے.
تحریر : عزیر خان تنولی
بهاولپور جلسے میں پی ٹی آئی کے سربراه عمران خان نے حکومت کو ٣٠ دن کی مهلت دی جس کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے پریس کانفرنس کرتے هو ئے یه کها تھا که انھوں نے عمران خان کی طرف سے اٹھائے جانے والے سوالوں کا جواب دے دیا هے اور اب مارچ کا کوئی اور جواز ڈھونڈنا هو گا
میرے خیال سے دونوں طرف سے سنجیده روئیے کا مظاهره نهیں کیا جا رها ، عمران خان کو چاهئے تھا که وه جمهوری اقدار کا خیال رکھتے هوئے پالیمنٹ میں اس مسئلے کو اٹھاتے اور حکومت کو مجبور کرتے که وه ان سوالوں کے جواب دے اور اگر وهاں ناکام هوتے تو عدالتوں پر اعتماد کرتے لیکن خان صاحب نے جمهوری روایات کے بر عکس پارلیمنٹ کو بائی پاس کر کے عوام کی عدالت میں یه مسئله پیش کیا هے، معلوم نهیں خان صاحب کے رفقا نے انھیں کیا حل تجویز کیا هے جس کیلئے وه اسلام آباد مارچ کرنے پر بھی تیار هو گئے هیں اور وه بھی ایسے وقت میں جب هماری فوج وزیرستان میں دهشت گردوں کے خلاف برسرپیکار هے اور خان صاحب کا صوبه اس سے زیاده متاثر هے اور زیاده ذمه داری بھی انهی پر عائد هوتی هے- ان کے اس موقف کو کوئی اور سپورٹ کرتا هو گا لهکن میری ناقص عقل کے مطابق خان صاحب کا یه فیصله درست نهیں کیونکه اگر وه اس سارے کھیل میں کامیاب بھی هو جاتے هیں تو جو کامیابی ان کے هاتھ آئے گی وه کامیابی کم اور ناکامی زیاده هو گی
دوسری طرف کی بات کریں تو وهاں بھی چند وزراء جو بظاهر لفاظی کے ماهر نظر آتے هیں انھیں محض یه ٹاسک دیا گیا که دوسری طرف سے لگائے گئے الزامات کا جواب دے کر حساب برابر کر دیا جائے ، حالانکه حکومت کو چاهئے که اگر خان صاحب نهیں بھی چاهتے تب بھی اپنے اوپر لگائے گئے الزامات اگر غلط هیں توانکو غلط ثابت کر کے اس باب کو همیشه کیلئے بند کر دے -
ڈاکٹر طاهرالقادری کی تحریک اور مارچ کی تو وجه سمبھ آتی هے کیونکه ان کے پاس فورم موجود نهیں لیکن خان صاحب شاید اس فورم کو استعمال نهیں کرنا چاهتے کیونکه انھوں نے اپنے نوجوان ورکرز کو بھی جگائے رکھنا هے جو وه گاهے بگاهے جلسے کرتے رهتے هیں .خان صاحب کو چاهئے وه جو مطالبات اسلام آباد جا کر حکومت کے سامنے رکھنے والے هیں وه پهلے هی انھیں بتا دیں اور اگرممکن هو تو قومی مفاد کو سیاسی مفاد پر ترجیح دیتے هوئے اور موقع کی نزاکت کو سمجھتے هو ئے سونامی مارچ کو ملتوی کر دیں کیونکه یه خان صاحب کی اخلاقی برتری هو گی اور حکومت کو چاهئے که خان صاحب کی مشاورت سے کمیشن بنا کر تمام معاملات کی تحقیقات کروا کے خان صاحب کی تسلی کرا دے تا که ملک کو مزید انتشار اور ممکنه بدامنی سے بچایا جا سکے.
No comments:
Post a Comment