رمضان ا لمبارک برکتوں والا مہینہ
ملک کے مختلف علاقوں میں ہمیشہ کی طرح اس بار بھی رویت ھلال نہ ہونے اور مرکزی رویت ھلال کمیٹی کے اعلان کے باوجود آج پہلا روزہ رکھا گیا - ہم مختلف معاملات میں باہمی صلاح و مشورہ اور ڈائیلاگ کی بات کرتے ہیں تو 67 سال گزرنے کے باوجود آج بھی یم اس نہایت اہمیت کے حامل مسئلے کو حل کرنے میں ناکام کیوں ہیں؟ ہمارے ملک کے تمام جید علما اس مسئلے پر کیوں توجہ نہیں دے رہے؟ یا وہ سرے سے اس کو مسئلہ سمجھتے ہی نہیں ؟ اگر تو مسجد قاسم علی خان والوں کے پاس واقعی شہادتیں ہوتی ہیں تو پھر کیں سارے ملک کو ان کی شہادتیں ماننے کا پابند کیا جاتا اور اگار ان کے پاس شہادتیں نہیں ہوتی تو کیوں ہم نے ریاست کے اندر ریاست بنانےکا اختیار دیا ہو ہے؟ کیا بندوق بردار شریعت کے حامی طالبان ہی ملک کے قانون کو نہیں مانتے؟ کیا وہ اس لئے غلط ہیں کہ وہ موصوم شہریوں کی جان لیتے ہیں؟ اگر وہ معصوم شہریوں کو مارنا بند کر دیں لیکن پاکستان کے آئین کو نہ مانیں تو کیا وہ غلط نہیں ہو گا؟ کیا مسجد قاسم علی خان کے منتظمین ملک پاکستان کے شہری نہیں اور ان پر ریاستی قانون کا نفاذ نہین ہوتا؟ کیا جب کوئی بندوق اٹھا کر اپنی بات منوانے کی کوشش کرے گا تبھی وہ غلط ہو گا اور قانون حرکت میں آئے گا؟ ہم بحثیت قوم کیوں بے حس ہو چکے ہیں ' ہمیں ٹھیک اور غلط کی تمیز کیو ں نہیں رہی؟ ہم کیو طالبان کو تو غلط کہتی ہیں پر ملک کے اندر رہ کر ملک کے قانون نہ ماننے والے مسجد قاسم علی والوں پر لب کشائی نہیں کرتے؟ کیا طالبان پہلے دن بندوق لے کر نکلے تھے؟ نہیں ہرگز نہیں بلکہ پہلے انھوں نے ایسے ہی چھوٹی چھوٹی سرگرمیاں شروع کیں اور جب کوئی پوچھنے والا نہیں تھا تو انھیں مزید پھلنے پھولنے کا موقع ملا اور آج وہ ایک ناسور بن گیا ہے جس سے ہم چاہ کر بھی جان نہیں چھڑا پا ریے- ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر مسجد قاسم علی کے پاس واقعی کوئی ایسا نظام موجود ہے جس سےچاند دیکھا جا سکتا ہے تو مرکزی رویت حلال کمیٹی کو بھی وہ ٹیکنالوجی فراہم کی جائے اور اگر نہیں تو حکومت پاکستان ان کے خلاف فوری ایکشن لے اور انھیں مرکزی رویت حلال کمیٹی کے فیصلے ماننے کا پابند بنایا جائے اور انھٰیں آئندہ ایسا غیر قانونی کام کرنے سے روکا جائے اور ان کے رویت کے حوالے سے منعقدہ اجلاس پر پابندی لگائی جائے اور ان اشخاص کو بھی مرکز رویت حلال کمیٹی کا رکن بنا کر مرکزی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کرنے کا پابند بنیا جائے-
ملک کے مختلف علاقوں میں ہمیشہ کی طرح اس بار بھی رویت ھلال نہ ہونے اور مرکزی رویت ھلال کمیٹی کے اعلان کے باوجود آج پہلا روزہ رکھا گیا - ہم مختلف معاملات میں باہمی صلاح و مشورہ اور ڈائیلاگ کی بات کرتے ہیں تو 67 سال گزرنے کے باوجود آج بھی یم اس نہایت اہمیت کے حامل مسئلے کو حل کرنے میں ناکام کیوں ہیں؟ ہمارے ملک کے تمام جید علما اس مسئلے پر کیوں توجہ نہیں دے رہے؟ یا وہ سرے سے اس کو مسئلہ سمجھتے ہی نہیں ؟ اگر تو مسجد قاسم علی خان والوں کے پاس واقعی شہادتیں ہوتی ہیں تو پھر کیں سارے ملک کو ان کی شہادتیں ماننے کا پابند کیا جاتا اور اگار ان کے پاس شہادتیں نہیں ہوتی تو کیوں ہم نے ریاست کے اندر ریاست بنانےکا اختیار دیا ہو ہے؟ کیا بندوق بردار شریعت کے حامی طالبان ہی ملک کے قانون کو نہیں مانتے؟ کیا وہ اس لئے غلط ہیں کہ وہ موصوم شہریوں کی جان لیتے ہیں؟ اگر وہ معصوم شہریوں کو مارنا بند کر دیں لیکن پاکستان کے آئین کو نہ مانیں تو کیا وہ غلط نہیں ہو گا؟ کیا مسجد قاسم علی خان کے منتظمین ملک پاکستان کے شہری نہیں اور ان پر ریاستی قانون کا نفاذ نہین ہوتا؟ کیا جب کوئی بندوق اٹھا کر اپنی بات منوانے کی کوشش کرے گا تبھی وہ غلط ہو گا اور قانون حرکت میں آئے گا؟ ہم بحثیت قوم کیوں بے حس ہو چکے ہیں ' ہمیں ٹھیک اور غلط کی تمیز کیو ں نہیں رہی؟ ہم کیو طالبان کو تو غلط کہتی ہیں پر ملک کے اندر رہ کر ملک کے قانون نہ ماننے والے مسجد قاسم علی والوں پر لب کشائی نہیں کرتے؟ کیا طالبان پہلے دن بندوق لے کر نکلے تھے؟ نہیں ہرگز نہیں بلکہ پہلے انھوں نے ایسے ہی چھوٹی چھوٹی سرگرمیاں شروع کیں اور جب کوئی پوچھنے والا نہیں تھا تو انھیں مزید پھلنے پھولنے کا موقع ملا اور آج وہ ایک ناسور بن گیا ہے جس سے ہم چاہ کر بھی جان نہیں چھڑا پا ریے- ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر مسجد قاسم علی کے پاس واقعی کوئی ایسا نظام موجود ہے جس سےچاند دیکھا جا سکتا ہے تو مرکزی رویت حلال کمیٹی کو بھی وہ ٹیکنالوجی فراہم کی جائے اور اگر نہیں تو حکومت پاکستان ان کے خلاف فوری ایکشن لے اور انھیں مرکزی رویت حلال کمیٹی کے فیصلے ماننے کا پابند بنایا جائے اور انھٰیں آئندہ ایسا غیر قانونی کام کرنے سے روکا جائے اور ان کے رویت کے حوالے سے منعقدہ اجلاس پر پابندی لگائی جائے اور ان اشخاص کو بھی مرکز رویت حلال کمیٹی کا رکن بنا کر مرکزی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کرنے کا پابند بنیا جائے-
No comments:
Post a Comment