وزیرستان آپریشن اور ہماری ذمہ داریاں
پاکستان عرصہ دراز سے دہشت گردی کی جنگ میں نہ چاہتے ہوئے بھی ایک فریق بنا ہوا ہے اور پاکستانی قوم اس جنگ کا خمیازہ بھگت رہی ہے - اس جنگ میں پچاس ہزار سے زیادہ معصوم شہری اپنی جانوں کا نظرانہ دے چکے ہیںاور ہماری ناتواں معیشت اربوں ڈالرز کا نقصان برداشت کر چکی ہے لیکن یہ جنگ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی' اسی سلسلے کی کڑی حالیہ وزیرستان آپریشن جس میں تقریبا پانچ لاکھ افراد کو گھر سے بے گھر ہونا پڑا- وہ جو کبھی گھر والے ہوا کرتے تھے آج در در کی ٹھوکریں کھا رہیں ہیں' جو دوسروں کی مدد کرتے تھے آج خود کسی کی مدد کے منتظر ہیں' حالات کی ستم ظریفی دیکھئے کہ جو اپنے چچا زاد تک کے سامنے نہیں جتے تھے آج بے یارومددگار کھلے کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں جہاں پردے کا کوئی بندوبست ہی نہیں- ہمیں اس صورتحال سے سبق سیکھنا چاہیئے اور ان لوگوں کی ہر ممکن مدد کرنی چاہیئے' کیونکہ وہ آج اس ملک اور قوم کی خاطر در در کے دھکے کھا رہے ہیں'- ہی ایسا مسئلہ ہے جس سے اکیلے حکومت کیلئے نمٹنا ممکن نہیں آج ہمیں بحثیت قوم اسے اپنا فرض سمجھ کے ان افراد کی مدد کرنی ہو گی' تا کہ انھیں اس بات کا احساس نہ ہو کہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں اکیلے ہیں' یہاں میں تمام سیاسی پارٹیوں کے سربراھان کو کہنا چاہوں گا کہ اس مو قع پر تمام سیاسی رنجشیں بھلا کر ایک قوم بن جائیں اور اپنے ورکرز کو بھی تمام سیاسی وابستگیاں بالائے طاق رکھتے ہوئے اس اہم مسئلے پر متحد رہنے کا کہیں تا کہ اس دہشت گردی کی لعنت کو ہمیشہ سے ملک پاکستان سے ختم کیا جا سکے
No comments:
Post a Comment