هر سال جیسے هی جون کا مهینه آتا هے اپنے ساتھ مساءل لاتا هے کیونکه اس مهینه میں حکومت آنے والے سال کا بجٹ پیش کرتی هے اورهر کسی کی نظر لگی هوتی هے که بجٹ میں کتنی تنخواه بڑھتی هے ، کونسا نیا ٹیکس لگتا هے ، کونسی چیز کتنی مهنگی هوتی هے وغیره لیکن میں یهان اس مو ضوع سے هٹ کر ایک اهم معاملے کی نشاندهی کرنا چاهتا هوں- بحثیت مسلمان اگر هم صاحب نصاب هیں تو زکواة هم پر فرض هے لیکن عام طور پر اسے زیاده اهمیت نهیں دی جاتی، جیسے هی ٣٠ جون قریب آتا هے هر ایک کو فکر لاحق هو جاتی هے که کهیں اکاونٹ میں سے زکواة نه کاٹ لی جاءے اور اس سے بچنے کی خاطر طرح طرح کے جتن کیے جاتے هیں ، هم اسلام کی تعلیمات کو ایک طرف رکھ کر اس کٹوتی سے بچنے کیلیے سب کچھ کر گزرتے هیں هم یه بھی بھول جاتے هیں که هم یهاں تو فراڈ کر کے پیسے بچا لیتے هیں جب آخرت میں هم سے سوال کیا جاے گا تب همارے پاس جواب نهیں هو گا، الله تعالی سے دعا هے که هم سب کو اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرماے
آمین
No comments:
Post a Comment