ڈاکٹر طاہر ا لقادری اور سیاست
اگر علامہ صاحب کی علمی اور مذ ہبی خدمات کی بات کی جائے تو اس پر بحث اور تنقیر کرنا علما حضرات کا کام ہے لیکن اگر وہ سیاست میں آٰئیں گے تو معذرت کے ساتھ یہاں کوئی مقدس گائے نہیں- کوئی ان کی سیاست اور انقلاب کو خوش آمدید کہے گا تو کوئی تنقید کرے گا اور سوشل میڈیا کی ترقی اور آسان رسائی نے اس تنقید کواوربھی آسان کر دیا ہے' لہذا اگر علامہ صاحب واقعی سیاست کرنے آئے ہیں تو انھیں پیری مریدی اور استاد شاگرد کی سوچ کو ختم کرنا ہو گا کیونکہ یہاں نہ تو سب علامہ صاحب کے مرید ہیں نہ ہی شاگرد اور نہ ہی حضرت کے ادارہ کے تنخواہ دار ملازمین جو ان کی رائے سے اختلاف کرنے کی جرات نہیں کر سکتے- اگر پاکستان میں رہ کر سیاست کرنی ہے تو تنقید برداشت کرنا سیکھنا ہو گا-
No comments:
Post a Comment